وقت کی قدر: وہ دولت جو دوبارہ نہیں ملتی
پیسہ کھو جائے تو دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، مگر گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ وقت نہیں ملتا، حالانکہ ہر انسان کے پاس دن کے وہی چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی ان گھنٹوں کو منصوبہ بندی سے استعمال کرتا ہے اور کوئی انہیں یونہی گزر جانے دیتا ہے۔
وقت کی قدر کا پہلا اصول ترجیحات طے کرنا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہو کہ آج کا سب سے اہم کام کون سا ہے تو باقی کام خود بخود ترتیب میں آ جاتے ہیں۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ بڑے کام کو چھوٹے حصوں میں بانٹ دیا جائے۔ ایک ساتھ پہاڑ سر کرنے کی سوچ اکثر ہمیں شروع ہی نہیں کرنے دیتی۔
آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آرام اور اپنوں کے ساتھ گزارا گیا وقت ضائع نہیں ہوتا۔ وقت کی صحیح قدر کام اور زندگی کے درمیان توازن میں ہے۔


اپنی رائے دیں